A Place for talking about Islam, which is free of any ethnicity, bias, grudge, hatred and confusion. Let's Discover the true Spirituality that is so abundant in Islam. It is an effort to shun out those immoral and atheistic and magical practices, in the name of Spirituality and Mysticism. May Allah guide us all.. Ameen
Monday, June 17, 2013
Friday, September 23, 2011
Monday, October 11, 2010
The fragrance of flowers
But the goodness of a person spreads in all directions.
..:: Sent Using Blackberry ::..
Thursday, September 23, 2010
The glory is Caliph Umer (R.A)
سیدنا عمر ؓ ان سے پوچھتے ہیں ، کیا کیا ہے اس شخص نے؟
یا امیر المؤمنین، اس نے ہمارے باپ کو قتل کیا ہے۔
کیا کہہ رہے ہو، اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے؟ سیدنا عمرؓ پوچھتے ہیں۔
سیدنا عمر ؓ اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں، کیا تو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے؟
وہ شخص کہتا ہے : ہاں امیر المؤمنین، مجھ سے قتل ہو گیا ہے انکا باپ۔
کس طرح قتل کیا ہے؟ سیدنا عمرؓ پوچھتے ہیں۔
یا عمرؓ، انکا باپ اپنے اونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا، میں نے منع کیا، باز نہیں آیا تو میں نے ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا۔
پھر تو قصاص دینا پڑے گا، موت ہے اسکی سزا۔ سیدنا عمرؓ کہتے ہیں۔
نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت، اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں، نہ ہی اس شخص سے اسکے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے، نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کسقدر شریف خاندان سے ہے، نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کی تعلق کسی معزز قبیلے سے تو نہیں، معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے؟ ان سب باتوں سے بھلا سیدنا عمر ؓ کو مطلب ہی کیا ہے!! کیوں کہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر ؓ پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمرؓ کو روک سکتا ہے۔ حتی کہ سامنے عمرؓ کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ قاتل کی حیثیت سے آ کھڑا ہو، قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا۔
وہ شخص کہتا ہے ا ے امیر المؤمنین: اس کے نام پر جس کے حکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں مجھے صحراء میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس جانے دیجیئے تاکہ میں انکو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے، میں اسکے بعد واپس آ جاؤں گا۔
سیدنا عمر ؓ کہتے ہیں: کون تیری ضمانتدے گا کہ تو صحراء میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟
مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اسکا نام تک بھی جانتا ہو۔ اسکے قبیلے، خیمےیا گھر وغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے۔
کون ضمانت دے اسکی؟ کیا یہ دس درہم کے ادھار یا زمین کے ٹکڑے یا کسی اونٹ کے سودے کی ضمانت کا معاملہ ہے؟ ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔
اور کوئی ایسا بھی تو نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمرؓ سے اعتراض کرے، یا پھر اس شخص کی سفارش کیلئے ہی کھڑا ہو جائے۔ اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔
محفل میں موجود صحابہ پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے، اس صورتحال سے خود عمر ؓ بھی متأثر ہیں۔ کیوں کہ اس شخص کی حالت نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔ کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کیلئے چھوڑ دیئے جائیں؟ یا پھر اسکو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا جائے؟ واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا!
خود سیدنا عمرؓ سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں ہیں اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں، معاف کر دو اس شخص کو۔
نہیں امیر المؤمنین، جو ہمارے باپ کو قتل کرے اسکو چھوڑ دیں، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں۔
عمرؓ ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں ، اے لوگو ، ہے کوئی تم میں سے جو اس کی ضمانت دے؟
ابو ذر غفاری ؓ اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی!
سیدنا عمرؓ کہتے ہیں ابوذر ، اس نے قتل کیا ہے۔
چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو، ابوذر ؓ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں۔
عمرؓ: جانتے ہو اسے؟
T
ابوذرؓ: نہیں جانتا اسے۔
عمرؓ: تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو؟
ابوذرؓ: میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں، اور مجھے ایسا لگتا ہے یہ جھوٹ نہیں بول رہا، انشاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا۔
عمرؓ: ابوذرؓ دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تیری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا۔
امیر المؤمنین، پھر اللہ مالک ہے۔ ابوذر اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں۔
سیدنا عمرؓ سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے، کچھ ضروری تیاریوں کیلئے، بیوی بچوں کو الوداع کہنے، اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے، اور اس کے قصاص کی ادئیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر واپس آنے کیلئے۔
اور پھر تین راتوں کے بعد، عمر ؓ بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے، انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا، عصر کے وقت شہر میں (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے، نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے۔
ابو ذرؓ بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر عمرؓ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔
کدھر ہے وہ آدمی؟ سیدنا عمرؓ سوال کرتے ہیں۔
مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین، ابوذرؓ مختصر جواب دیتے ہیں۔
ابوذرؓ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں معمول سے سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔
محفل میں ہو کا عالم ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے؟
یہ سچ ہے کہ ابوذرؓ سیدنا عمرؓ کے دل میں بستے ہیں، عمرؓ سے ان کے جسم کا ٹکڑا مانگیں تو عمرؓ دیر نہ کریں کاٹ کر ابوذرؓ کے حوالے کر دیں، لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے، اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے، کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا، نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے، حالات و واقعات کے مطابق نہیں اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔
مغرب سے چند لحظات پہلےوہ شخص آ جاتا ہے، بے ساختہ حضرت عمرؓ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے، ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے۔
عمرؓ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں اے شخص، اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا، نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا!
امیر المؤمنین، اللہ کی قسم، بات آپکی نہیں ہے بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے، دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں، اپنے بچوں کو پرندوں کے چوزوں کی طرح صحراء میں تنہا چھوڑ کر، جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے۔
سیدنا عمرؓ نے ابوذر کی طرف رخ کر کے پوچھا ابوذرؓ، تو نے کس بنا پر اسکی ضمانت دے دی تھی؟
ابوذرؓ نے کہا، اے عمرؓ، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ ابلوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے۔
سید عمرؓ نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دو نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا کہتے ہو اب؟
نوجوانوں نے روتے ہوئے جواب دیا، اے امیر المؤمنین، ہم اس کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں، ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے۔
سیدناؓ عمر اللہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو انکی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر رہے تھے۔۔۔۔
اے نوجوانو! تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔
اے ابو ذرؓ! اللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے۔
اور اے شخص، اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے۔
اور اے امیر المؤمنین، اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے۔
محدثین میں سے ایک یوں کہتے ہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اسلام اور ایمان کی سعادتیں تو عمرؓ کے کفن کے ساتھ ہی دفن ہو گئی تھیں
..:: Sent Using Blackberry ::..
Friday, September 10, 2010
EID AANAY WAALI HAI!
Maaa!
Hum apne ghar kab jayeinge...?
Yahan camp main dil nahi lagta!
Na khilonay hain na dost!
Bas aansu he aansu hain!
Ye dekho meray kapron par,
Muflisi k daagh lag chukay hain,
Inhain tabdeel karna hai,
Aur naye jootay bhi lenay hain!
Tum bolti kyun nahi ho Maa..?
Kya roz-e-Eid bhi main bhook ka roza,
Sabar k saath aftaar karoon ga?
'Baba say kaho na ghar chaltay hain....!'
Plzzz don't forget the Flood Stricken people!
*** Sent Using BlackBerry ***
Saturday, September 4, 2010
"Hajaj Bin Yusuf"
"Nabina Admi" ko "KHANA'KABA" ka "GHILAF" pakry dekh kr poucha,
Kia kr rahy ho?
Admi bola:
Me 20sal se
"ALLAH ta'ala" sy apni Binai ki Dua kr rha hon!
"Hajaj Bin Yosuf" ne ta'ajjub sy kaha
Itni muddat sy na teri Dua Qabul hui or na tujy is ka badla mila?
Aesa ho Nai skta!
Dekho ye talwar hy isko apny pas rkho,
Me 3din k bad aunga
agr tri Dua Qabul na hui to Me tjhy Qatal kr dun ga...!
3 din bad jb
"Hajaj" wapis aaya to Us nabina ki Binai Aa chuki thi.
Is pr
"Hajaj bin yosuf" ny kaha,
20 sal ki Beprwai ki Dua or 3 din ki Dil sy NikLi Dua me Yehi FARQ hai.
*** Sent Using BlackBerry ***
Friday, August 27, 2010
العسل والقرفة : سبحان الله
|
Monday, August 23, 2010
Wali Allah se iblees ne kaha
Tuje ALLAH pe boht yakeen hy tu onchay pahar pe cher ja aur chalang laga dy
Dekhte hain tera ALLAH tuje bachata hy k nahi
Wali ne kaha shaitan! Dafa ho ja. Ye ALLAH ka kaam hy k muje azmaye, mera kam nahi k mein usko azmaun..! (SUBHAN ALLAH)
*** This Message Has Been Sent Using BlackBerry Internet Service from Mobilink ***
Thursday, February 18, 2010
Namaz and our conduct
ے
"
ایک شخص ساٹھ سال تک نماز پڑھتا ہے
مگر اسکی ایک نماز بھی قبول نہیں ہوتی"
پوچھا گیا : وہ کیسے ؟؟
انہوں نے کہا : کیونکہ نہ وہ اپنا رکوع پورا کرتاہے اور نا سجود
نا قیام پورا کرتا ہے نا اس کی نماز میں خشوع ہوتا ہے
حضرت عمر رضي الله عنه نے فرمایا :
ایک شخص اسلام میں بوڑھا ہوگیا
اور ایک رکعت بھی اسنے اللہ کے لیے مکمل نہیں پڑھی
پوچھا گیا کیسے یا امیر المومنین ؟
فرمایا :
اسنے نا اپنا رکوع پورا کیا اور نا سجود
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا
ایک زمانہ لوگوں پر ایسا آئے گا"
لوگ نماز پڑھیں گے مگر انکی نماز نہیں ہوگی
اور مجھے ڈر ہے کہ وہ زمانہ یہی زمانہ ہے"
امام اگر آج کا زمانہ آکر دیکھ سکتے تو کیا کہتے ؟؟
امام غزالی رحمه الله نے فرمایا:
ایک شخص سجدہ کرتا ہے اس خیال سے کہ اس سجدہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرے گا
اس اللہ کی قسم اگر اس کے اس سجدے کا گناہ تقسیم کیا جائے تو سارا بلد
ھلاک کر دیا جائے
پوچھا گیا وہ کیسے ؟؟
فرمایا:
وہ اپنا سر اپنے اللہ کے سامنے جھکاتا ہے
مگر اپنے نفس ،گناہوں، اپنی شہوات اور دنیا کی محبت میں مصروف ہوتا ہے
تو یہ کیسا سجدہ ہے ؟؟؟
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
میری آنکھون کی ٹھنڈک نماز میں رکھی
گئی ہے
تو کیا کبھی آپ نے ایسی نماز پڑھی جو آپکے آنکھوں کی ٹھنڈک بنی ہو ؟؟؟
کیا کبھی آپ گھر کی طرف تیزی سے پلٹے صرف دو رکعت کی ادائیگی کی نیت سے ؟؟
کیا کبھی نماز کی محبت نے آپ کو بے چین کیا ؟؟
کیا کبھی آپ نماز کے لیے ترسے ؟؟
کیا کبھی آپ نے رات کا بے چینی سے انتظار کیا
تاکہ آپ اپنے رب کے ساتھ اکیلے نماز میں ملاقات کر سکیں ؟؟
اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے :
(( ألم يأن للذين آمنوا أن تخشع قلوبهم لذكر الله ))
کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ اللہ کی یاد سے ان کے
دل نرم ہوجائیں؟؟؟؟
ابن مسعود رضي الله عنه فرماتے ہیں
ہمارے اسلام لانے کے چار سال بعد یہ آیت نازل ہوئی
اس ایت میں اللہ سبحانہ نے ہم سے شکایت کی
ہم سب بہت رویے
اپنے قلۃ خشوع پر
پھر ہم گھروں سے نکلتے تو ایک دوسرے کو عتاب کرتے اور کہتے
کیا تم نے اللہ سبحانہ کا یہ فرمان نہیں سنا ؟؟؟
(( ألم يأن للذين آمنوا أن تخشع قلوبهم لذكر الله ))
کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ اللہ کی یاد سے ان کے
دل نرم ہوجائیں؟؟؟؟
تو لوگ گر جاتے اور رونے لگتے
اللہ کے اس عتاب پر
تو کیا کبھی آپ نے یہ محسوس کیا اس آیت سے؟؟
کہ اللہ تعالی آپ سے شکوہ کر رہا ہے ؟؟
اپنی نمازوں کو ضائع ہونے سے بچائیں
اپنے تمام دوستوں کو یہ میل نشر کریں
اور اگر آپ پر یہ بھاری ہو تو جان لیجیئے
آپ کے گناہ اس کام میں رکاوٹ ہیں
Wednesday, October 7, 2009
Last Words of Nabi Kareem S.A.W
S uddenly, there was a person, he said salaam. |
Thursday, August 20, 2009
Thursday, July 23, 2009
Life of Prophet Muhammad (SAW)
1. HOLY NAMES
Muhammad
Ahmed
Hamid
Mahmood
Mahi
Hashir
Aaqib
2. HOLY BIRTH
Islamic Dates/Day/Time/Place
12th or 9th Rabbi-ul-awal, Monday, Early in the morning (before sun rise) at Holy MAKKAH
or
English date/year
17th June 569. A.D
or
Hindi date date/year
1st of jaaith 3672 kul jug
or
Other Dates
1st year of elephant. (on40thday after elephant event) 2675th year to Prophet Noah's flood 2585th year to Prophet Ibrahimi year
3. DEATH
12th Rabbi-ul-awwal 11 hijrah, 23 Nabvi, 8th June, 632 A.D, At the time of chast (after sun rise) In Madina munawwarah
In the house of Bibi Ayesha R.A. Burried in the house of bibi Aysha R.A
Grave exactly where died in the room
4. LIFE SPAN Total Life Span
63 years +0 month+4days+6 hours or
total 22330 days or total 535924 hours
Stay in Holy Makkah - 53 years
Stay in Holy Madina - 10 years
5. UNCLES
Total uncles - 9
Only 2 Accepted ISLAM - Syedna Hamza R.A & Syedna Abbas R.A
8. Uncles Did not become Muslim -
Aabu Talib, Abu Lahab, Zubair, Maqoom, Zarrar, Haris & Mugheera
6. AUNTS
Total Aunts - 6
Only one Accepted ISLAM; Syeda Safia R.A
5 Aunts didnot accept ISLAM -
Um-e-Hakeem Baiza (Grandmother of Syedna Usman R.A), Aroohi (Some says perhaps she accepted Islam but not confirmed), Ateka (Some says perhaps she accepted Islam but not confirmed), Barrah, Amemmah
7. EVENTS BEFORE VAHEE
a) Death of Father Abdullah Bin Mutalib------------Before Holy Birth
b) Death of Mother Bibi Amena----------------------- 6th year after Birth
c) Death of Grand Father Abu Mutalib----------- 8th year after Birth
d) First business trip towards Syria------------- 13th year after Birth
e) Participation- Harb-e-Fajar (battle for Kabba hurmat )15th year Birth
f) Second business trip (with Mehsraslave of Bibi Khateeja R. A) 23rd year Birth
g) Wedding with Syeda Khateeja R.A ---------------25th year after Birth
h) Resolved tribe conflicts (fixing of Hajr-e-Asvad) 35th year after Birth
i) Starting to go to Cave Hira --------------------------36th year after Birth
j) Beginning to ascend Vahee------------------------40th year after Birth
8. WIVES - AZWAJ-E-MUTAHERAT
Wife Name | Nikkah Age | Wife's | |||||
Year | Wife age | Prophet's age | Death | Burried | Before Nikkah | Status | |
Khateeja R.A. | 15 B.N | 40 | 25 | 10A.N | Makkah | widow twice | -------- |
Sudah R.A | 10 A.N | 50 | 50 | 23 hijra | Madina | widow | -------- |
Ayesha R.A | 02 hijra | 10 | 55 | 57 hijra | Madina | virgin | -------- |
Hafsa R.A | 03 hijra |
| 56 | 45 hijra | Madina | widow | Husband died inBadar |
Zanab hazima | 04 hijra |
| 57 |
| Madina | widow | Husband died inUhad |
umm-e-salma | 04 hijra |
| 57 | 63 hijra | Madina | widow | Husband died inUhad |
Zanab hajash | 04 hijra |
| 57 | 20 hijra | Madina | Divorced |
|
Jvaria | 05 hijra | 15 | 58 | 50 hijra | Madina | Divorced |
|
Umm-e-Habiba | 05 hijra |
| 58 | 44 hijra | Madina | seperated | Husband left Islam |
Memoona R.A | 06 hijra |
| 59 | 51 hijra | sarif | widow twice |
|
Safia R.A. | 05 hijra | 15 | 58 | 50 hijra | Madina | Divorced |
|
Maria Qubtia |
|
|
| 16 hijra | Madina |
|
|
IMPORTANT TO NOTE
a) Syeda Ayesha R.A was the daughter of sydna abu baker siddiq R.A
b) Syeda hafza was the daughter of syedna umer R.A
c) Syeda umm-e-habiba was the daughter of abu sufiyan
d) Only syeda khateeja and syeda zainab hazima died in prophet's life
e) 9 wives were alived when Prophet S. A. W Passed away.
9. SONS
Total Sons - 3
1. Syedna QASIM from Khateeja.R.A
2. Syedna Abdullah (Tayab, Tahir) from Khateeja R.A
3. Syedna Ibraheem from Maria Qubtia R.A All the sons died in their child hood, first 2 are burried in Jannat-ul-Moalla Makkah and Last one is in Jannat-ul-Baqqi Madina.
10. DAUGHTERS - 4 Daughters
1.. Syeda Zainab R.A. married with Abual Bin Aas Bin Rabbi
2. Syeda Ruqayyia R.A married with Syedna Usman Bin Affan
3. Syeda Um-e-Kulsoom married with Syedna Usman bin Affan
4. Syeda Fatima ZUHRA married with Syedna Ali Bin Abi Talib All daughters were from Um-ul-Momeneen Syeda Khatija R. A. All daughters except Syeda Fatima died in Prophets' life. All daughters burried in Jannat-ul-Baqi Madina.
11. FAMILY TREE OF PROPHET MUHAMMAD
12. TREE OF PROPHETS OF ALLAH
13. S0ME MAJOR PROPHETS Names of Major Prophets in descending order
14. BATTLES
Battles in which Prophet took part physically, called GHAZWAT. Battles in which Prophet not command physically, called SARAYAS GHAZWAT - 27
1. WADAN
2. BAWAT
3. SAFWAN
4. ZU-ALASHEERA
5. BADAR KURA
6. QANEEQAH
7. AL-SAWEEQ
8. QAR-QARA lekaarmd
9. UZFAN
10. UHAD
11. HMRA-O-ASAD
12. BANU NASEER
13. BADAR-AKHIR
14. DOMTA JANDOL
15. BANU MUTLAQ
16. AHZAB/TRENCH
17. BANU QAREEZA
18. BANU LAHYAN
19. ZE-FARDA
20. HUDABIYA
21. KHYBER
22. VADI-E-ANQRA
23. ZAT- UL- RAQA
24.. MAKKAH
25. HUNNAIN
26. TAIF
27. TUBOOK
15. The Prophet's Last Sermon
In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful This sermon was delivered on the ninth day of Dhul Hijah, 10 A.H. (632 A.D.) in the valley of Mount Arafat . The contents of the message were collected from different narrations, and there are other parts to it that are not mentioned here. This sermon still needs the authenticity of all of its parts to be checked.
"O People, lend me an attentive ear, for I know not whether, after this year, I shall ever be amongst you again. Therefore, listen to what I am saying to you very carefully and take these words to those who could not be present today.
O People, just as you regard this month, this day, this city as sacred, so regard the life and property of every Muslim as a sacred trust. Return the goods entrusted to you to their rightful owners. Hurt no one so that no one may hurt you. Remember that you will indeed meet your Lord, and that He will indeed reckon your deeds. Allah has forbidden you to take interest, therefore, all interest obligations shall henceforth be waived. Your capital, however, is yours to keep. You will neither inflict nor suffer inequity. Allah has judged that there shall be no interest and that all interest due to Abbas bin Abdul-Muttalib (the prophet's uncle) shall henceforth be waived.
Every right arising out of homicide in pre-Islamic days is henceforth waived and the first such right I waive is that arising from the murder of Rabiyah bin Al-Harith (relative of the prophet). O Men, the unbelievers indulge in tampering with the calendar in order to make permissible that which Allah forbade, and to forbid that which Allah had made permissible. With Allah the months are twelve; four of them are holy; three of these are successive and one occurs singly between the months of Jumadah and Shaaban. Beware of Satan, for the safety of your religion. He has lost all hope that he will ever be able to lead you astray in big things, so beware of following him in small things.
O People, it is true that you have certain right with regard to your women, but they also have rights over you. If they abide by your right then to them belongs the right to be fed and clothed in kindness. Do treat your women well and be kind to them for they are your partners and committed helpers. And it is your right that they do not make friends with any one of whom you do not approve, as well as never commit adultery.
O People, listen to me in earnest, worship Allah, say your five daily prayers, fast during the month of Ramadhan, and give your wealth in zakat. Perform Hajj if you can afford to. All mankind is from Adam and Eve, an Arab has no superiority over a non-Arab, nor a non-Arab has any superiority over an Arab; also a white has no superiority over a black, nor a black has any superiority over white except by piety and good action. Learn that every Muslim is the brother of another Muslim, and that Muslims constitute one brotherhood. Nothing shall be legitimate to a Muslim which belongs to a fellow Muslim unless it was given freely and willingly. Do not, therefore, do injustice to your selves.
Remember, one day you will appear before Allah and answer for your deeds. So beware, do not stray from the path of righteousness after I am gone.
O People, no prophet or apostle will come after me and no new faith will be born. Reason well, therefore, O People, and understand my words which I convey to you. I leave behind me two things, the Quran and my example, the Sunnah, and if you follow these you will never go astray.







